وہ معاہدات، معاملات اور مقدمات جو کہ خلافت سے قبل ہوئے اور ان کے متعلق فيصلوں کو خلافت کے قيام سے قبل نافذ کيا جا چکا،خلافت کي عدليہ انہيں منسوخ نہيں کرے گي اور ان پر نظر ثاني نہيں کرے گي، ماسوائے :
ا) اسلام کے خلاف ان کا اثراب بھي موجود ہو? ايسي صورت ميں ان پر نظر ثاني واجب ہو گي?
ب) جب کسي فيصلے کا تعلق اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے سے ہو،جو کہ گذشتہ حکمرانوں يا ان کے حواريوں سے وقو ع پزير ہوئے ہوں? ايسي صورت ميں خليفہ کو يہ حق حاصل ہے کہ وہ دوبارہ ان مقدمات کي سماعت کرے?
ج) يا ان کا تعلق ايسے غصب شدہ مال سے ہو جو ابھي تک غاصب کے ہاتھ ميں ہو ?