A
18

آرٹيکل 47

تدبير کرے اور خليفہ اس کي منظوري دے دے، تو معاون کو چاہيے کہ وہ اسے کسي کمي بيشي کے بغير اسي طرح نافذکرے جس طرح کہ خليفہ نے منظوري دي تھي?  اگر خليفہ پھر اس معاملے کاجائزہ لے اور ديکھے کہ معاون نے اس امر کے خلاف عمل کيا ہے، تو ديکھا جائے گا کہ اگر يہ حکم کسي ايسے معاملے سے متعلق ہو جسے معاون نے خليفہ کے نقطئہ نظر کے مطابق نافذ کيا ہو، يا يہ حکم کسي ايسے مال سے متعلق ہو جسے معاون نے خليفہ کي طرف سے کرديا ہوتواس صورت ميں معاون کي رائے نافذ العمل سمجھي جائے گي?  کيونکہ يہ دراصل خليفہ کي رائے تھي اور جو احکامات نافذ کيے گئے، يا جو اموال خرچ کيے گئے، خليفہ اس کي تلافي نہيں کرسکتا?    اگر جس معاملے کو معاون نے نپٹايا ہو، اس کاتعلق ايسے امور کے علاوہ کسي اور چيز کے ساتھ ہو، مثلاً کسي کو والي مقرر کرنا يا فوج تيار کرنا?  تو اس صورت ميں خليفہ اس معاملے کو تبديل کرسکتاہے?    اس صورت ميں خليفہ ہي کي رائے نافذ ہوگي اور معاون کا فيصلہ کالعدم سمجھا جائے گا?  کيونکہ يہ ايسے اعمال ہيں کہ اگر يہ خود خليفہ سے بھي صادر ہوئے ہوں تو تب بھي وہ ان کا تدارک کرسکتاہے?    لہ?ذا ايسے معاملات ميں خليفہ اپنے معاون کے فيصلوں کي تلافي تو بطريقِ اولي? کرسکتاہے? 

17 مشاہدات
0 شراکتیں