A
18

آرٹيکل 189

اسلامي رياست کے دوسري رياستوں کے ساتھ تعلقات ان چار پہلوئوں پرمشتمل ہوں گے:

                (1)    عالمِ اسلام ميں قائم تمام مملکتيں گويا ايک علاقے (ملک) ميں قائم ہيں?   يہ خارجي تعلقات کے ضمن ميں داخل نہيں ہوں گي اور ان کے ساتھ تعلقات کو خارجہ سياست نہيں سمجھا جائے گا، بلکہ ان سب کوايک رياست کي صورت ميں اکٹھا کرنے کے ليے کام کرنا فرض ہے? 

                (2)    وہ رياستيں جن کے ساتھ ہمارے اقتصادي، تجارتي، ثقافتي يا اچھي ہمسائيگي کے معاہدات ہيں تو ان کے ساتھ معاملات کو معاہدات کے مطابق نپٹايا جائے گا?  اگر معاہدہ اجازت ديتاہو تو اس رياست کے لوگ شناخت کے ساتھ، بغير پاسپورٹ کے اسلامي رياست ميں داخل ہوسکيں گے?  ليکن شرط يہ ہوگي کہ وہ بھي ہمارے ساتھ يہ معاملہ کريں گے?  اس کے ساتھ اقتصادي اورتجارتي تعلقات محدود مدت اور مخصوص اشياء کي بنياد پر ہوں گے اور بشرطيکہ اس رياست کي اشياء کي اسلامي رياست کو ضرورت ہو اور يہ کہ انہيں فروخت کي جانے والي اشياء اُس رياست کو مضبوط بنانے کاسبب نہ بنيں? 

                (3)    وہ ممالک، جن کے اور ہمارے درميان کسي قسم کے معاہدات نہيں ہيں?   اسي طرح استعماري ممالک، مثلاًبرطانيہ، امريکہ، فرانس اور وہ ممالک، جو مسلمان ممالک پر اپني نظريں جمائے بيٹھے ہيں، جيساکہ روس، توان کے ساتھ حالتِ جنگ کامعاملہ کيا جائے گا?   ان کے بارے ميں مکمل احتياط برتي جائے گي?   ان کے ساتھ کسي قسم کے سفارتي تعلقات قائم کرنا درست نہيں?   ان ممالک کے عوام ہماري رياست ميں اس وقت داخل ہوسکيں گے اگر ان کے پاس پاسپورٹ ہو، اور ہرفرد کو ہر سفر کے ليے مخصوص اجازت دي گئي ہو? 

                (4)    جو ممالک ہمارے ساتھ عملاً حالتِ جنگ ميں ہيں جيساکہ اسرائيل تو اس کے ساتھ تمام معاملات کو حالتِ جنگ کي بنياد پرنپٹايا جائے گا?   اس کے ساتھ ہمارا معاملہ عملي جنگ کا ہوگا، خواہ اس کے ساتھ عارضي جنگ بندي کا معاہدہ ہو يا نہ ہو، اور اس کے شہري ہمارے ملک ميں داخل نہيں ہوسکتے? 

18 مشاہدات
0 شراکتیں