بيروني تجارت کا اعتبار تاجرکے ملک کے لحاظ سے ہوگا نہ کہ سازوسامان کے لحاظ سے ? چنانچہ حربي ملک کے تاجر کاہمارے علاقوں ميں تجارت کرنا ممنوع ہے، سوائے يہ کہ کسي خاص تاجر يا خاص مال کي تجارت کي اجازت دي گئي ہو? جن ممالک کے ساتھ ہمارے معاہدات ہيں تو ان کے تاجروں کے ساتھ ہمارے اور ان کے درميان طے پانے والے معاہدے کي روسے معاملہ کيا جائے گا? عوام ميں سے جو تاجر ہوں گے انہيں اس چيز کو باہر لے جانے سے روکا جائے گا، جس کي رياست کو ضرورت ہے يا جس سے دشمن کو فوجي، صنعتي يا اقتصادي قوت حاصل ہوتي ہو? البتہ انہيں اپنا مال رياست ميں لانے سے نہيں روکاجائے گا? ان احکامات سے وہ ملک مستثني? ہوگا جس کے ساتھ ہم عملاً حالتِ جنگ ميں ہيں، جيساکہ اسرائيل، کيونکہ اس کے ساتھ تمام معاملات، خواہ وہ تجارتي ہوں ياکوئي اوراسے دارالحرب فعلاً سمجھتے ہوئے طے کيے جائيں گے?
A
18
آرٹيکل 161
18 مشاہدات
0 شراکتیں
Related Articles
مضمون
123
اقتصادي پاليسي يہ ہے کہ (رياست کے شہر يوں کي) ضروريات کو پورا کرتے وقت معاشرے کي بنياد(حکم شرعي)کو مدنظر رکھا جائے گا يعني ضروريات کو پورا کرنے کي اسا...
18
مضمون
124
(اصل)اقتصادي مسئلہ اموال اور منافع کورياست کے تمام افراد پرتقسيم کرنا اور عوام کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ کوشش کر کے ان اموال سے فائدہ اٹھاسکيں?
19
مضمون
125
ضروريات کو پوراکرنے کي ضمانت دينا لازمي ہے? اسي طرح اس بات کي بھي ضمانت دي جائے گي کہ ہر فرد ان ضروريات کو حاصل کرسکے جن کے ذريعے وہ اپنے معيار زندگي...
17
مضمون
126
نے بني نوع انسان کو مال ميں اپنا جانشين بنايا ہے اور اسي عام جانشيني کي وجہ سے انسان کو ملکيت کا حق حاصل ہے? اللہ تعالي? ہي نے فرد کو اس مال پرملکيت ...
16
مضمون
127
ملکيت کي تين اقسام ہيں? انفرادي ملکيت، عوامي ملکيت، رياستي ملکيت?
18