A
18

آرٹيکل 161

بيروني تجارت کا اعتبار تاجرکے ملک کے لحاظ سے ہوگا نہ کہ سازوسامان کے لحاظ سے ?  چنانچہ حربي ملک کے تاجر کاہمارے علاقوں ميں تجارت کرنا ممنوع ہے، سوائے يہ کہ کسي خاص تاجر يا خاص مال کي تجارت کي اجازت دي گئي ہو?  جن ممالک کے ساتھ ہمارے معاہدات ہيں تو ان کے تاجروں کے ساتھ ہمارے اور ان کے درميان طے پانے والے معاہدے کي روسے معاملہ کيا جائے گا?  عوام ميں سے جو تاجر ہوں گے انہيں اس چيز کو باہر لے جانے سے روکا جائے گا، جس کي رياست کو ضرورت ہے يا جس سے دشمن کو فوجي، صنعتي يا اقتصادي قوت حاصل ہوتي ہو?  البتہ انہيں اپنا مال رياست ميں لانے سے نہيں روکاجائے گا?  ان احکامات سے وہ ملک مستثني? ہوگا جس کے ساتھ ہم عملاً حالتِ جنگ ميں ہيں، جيساکہ اسرائيل، کيونکہ اس کے ساتھ تمام معاملات، خواہ وہ تجارتي ہوں ياکوئي اوراسے دارالحرب فعلاً سمجھتے ہوئے طے کيے جائيں گے?

18 مشاہدات
0 شراکتیں