وہ تمام اعمال، جن کي انجام دہي کو شريعت نے امت پر فرض قرارد يا ہے، اگربيت المال ميں ان اعمال (ذمہ داريوں) کو انجام دينے کے ليے مال نہ ہو تو يہ فرض امت کي طرف منتقل ہوتاہے? ايسي صورت ميں رياست کو اس امرکا حق حاصل ہے کہ وہ اس فريضہ سے عہدہ برآ ہونے کے ليے امت پر ٹيکس لازم کردے? ليکن جن امور کي ادائيگي کو شريعت نے امت پر فرض قرارنہيں ديا ہے، ان کے ليے ٹيکس وصول کرنا رياست کے ليے جائز نہيں? چنانچہ رياست کو رٹ فيس يا دفتري فيس يا عدالتي ٹيکس يااس نوعيت کاکوئي بھي ٹيکس نہيں لے سکتي?
A
18
آرٹيکل 147
17 مشاہدات
0 شراکتیں
Related Articles
مضمون
123
اقتصادي پاليسي يہ ہے کہ (رياست کے شہر يوں کي) ضروريات کو پورا کرتے وقت معاشرے کي بنياد(حکم شرعي)کو مدنظر رکھا جائے گا يعني ضروريات کو پورا کرنے کي اسا...
18
مضمون
124
(اصل)اقتصادي مسئلہ اموال اور منافع کورياست کے تمام افراد پرتقسيم کرنا اور عوام کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ کوشش کر کے ان اموال سے فائدہ اٹھاسکيں?
18
مضمون
125
ضروريات کو پوراکرنے کي ضمانت دينا لازمي ہے? اسي طرح اس بات کي بھي ضمانت دي جائے گي کہ ہر فرد ان ضروريات کو حاصل کرسکے جن کے ذريعے وہ اپنے معيار زندگي...
17
مضمون
126
نے بني نوع انسان کو مال ميں اپنا جانشين بنايا ہے اور اسي عام جانشيني کي وجہ سے انسان کو ملکيت کا حق حاصل ہے? اللہ تعالي? ہي نے فرد کو اس مال پرملکيت ...
16
مضمون
127
ملکيت کي تين اقسام ہيں? انفرادي ملکيت، عوامي ملکيت، رياستي ملکيت?
17