زکو?ة صرف اُن اموال پر لي جائے گي جن پر زکو?ة لينے کو شريعت نے متعين کرديا ہے، مثلاً نقدي، تجارتي سازوسامان، مويشي اور غلہ? جن اموال پر زکو?ة لينے کي کوئي شرعي دليل نہ ہو، اُن پر زکو?ة نہيں لي جائے گي? زکو?ة ہر صاحبِ نصاب سے لي جائے گي، خواہ وہ مکلف ہو جيساکہ عاقل بالغ انسان يا وہ غير مکلف ہو، جيسا کہ بچہ اور مجنون? پھر اس زکو?ة کوبيت المال کي ايک خاص مدميں رکھا جائے گا ? زکو?ة کو قرآن کريم ميں وارد آٹھ اصناف ميں سے کسي ايک يا ايک سے زائد اصناف کے علاوہ کہيں اور خرچ نہيں کيا جائے گا?
A
18
آرٹيکل 143
18 مشاہدات
0 شراکتیں
Related Articles
مضمون
123
اقتصادي پاليسي يہ ہے کہ (رياست کے شہر يوں کي) ضروريات کو پورا کرتے وقت معاشرے کي بنياد(حکم شرعي)کو مدنظر رکھا جائے گا يعني ضروريات کو پورا کرنے کي اسا...
17
مضمون
124
(اصل)اقتصادي مسئلہ اموال اور منافع کورياست کے تمام افراد پرتقسيم کرنا اور عوام کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ کوشش کر کے ان اموال سے فائدہ اٹھاسکيں?
18
مضمون
125
ضروريات کو پوراکرنے کي ضمانت دينا لازمي ہے? اسي طرح اس بات کي بھي ضمانت دي جائے گي کہ ہر فرد ان ضروريات کو حاصل کرسکے جن کے ذريعے وہ اپنے معيار زندگي...
17
مضمون
126
نے بني نوع انسان کو مال ميں اپنا جانشين بنايا ہے اور اسي عام جانشيني کي وجہ سے انسان کو ملکيت کا حق حاصل ہے? اللہ تعالي? ہي نے فرد کو اس مال پرملکيت ...
16
مضمون
127
ملکيت کي تين اقسام ہيں? انفرادي ملکيت، عوامي ملکيت، رياستي ملکيت?
17