بنيادي اصول يہ ہے کہ مرد اور عورت الگ الگ ہوں اور وہ کسي ايسي ضرورت کے سوا اکٹھے نہيں ہوسکتے ہيں جس کي شريعت نے اجازت دي ہواورجس (شرعي ضرورت)کے ليے اجتماع ناگزير ہو، مثلاً تجارت کے ليے يا حج کے ليے?
A
18
آرٹيکل 113
21 مشاہدات
0 شراکتیں
Related Articles
مضمون
112
بنيادي طورپر عورت ماں ہے اورگھر کي ذمہ دار ہے? وہ ايک ايسي آبرو (عصمت )ہے، جس کي حفاظت فرض ہے?
22
مضمون
114
عورت کے بھي وہي حقوق ہيں جو مر د کے ہيں اور عورت پر بھي وہي فرائض ہيں جو مردپر ہيں، ماسوائے جو اسلام نے اس کے ساتھ خاص کيے ہيں? اسي طرح مرد کے بھي کچ...
18
مضمون
115
سرکاري ملازمتوں پر عورت کا تقرر جائز ہے? محکمة المظالم کو چھوڑ کر عدليہ کي باقي ذمہ دارياں سنبھالنا بھي اس کے ليے جائز ہے? عورت مجلسِ اُمت کے ليے ار...
18
مضمون
116
عورت حکمران نہيں بن سکتي? چنانچہ وہ خليفہ، محکمة المظالم کا قاضي، والي، عامل اورکوئي ايسا عہدہ قبول نہيں کرسکتي، جس پر حکمراني کا اطلاق ہوتاہو? اسي ...
20
مضمون
117
عورت کي زندگي دو دائروں ميں ہے: پبلک لائف اور پرائيويٹ لائف? چنانچہ پبلک لائف ميں وہ عورتوں، محرم اور غير محرم مردوں کے ساتھ زندگي گزار تي ہے? ليکن...
20