کوپانچ اختيارات حاصل ہو ں گے:
1) ا) خليفہ مجلسِ امت سے مشورہ کرے گا اور مجلسِ امت خليفہ کو عملي اقدام اور ان عملي معاملات اورامور ميں مشورہ دے گي ، جن کا تعلق لوگوں کے امور کي ديکھ بھال سے متعلق اندروني پاليسي سے ہو اور جس ميں گہري نظر اور جانچ پڑتال کي ضرورت نہيں ہوتي جيسا کہ حکو مت کو چلانا،تعليم، صحت، تجارت، صنعت، زراعت وغيرہ? ايسي صورت ميں خليفہ کے ليے مجلس کي رائے پر عمل کرنا لازم ہوگا?
ب) وہ معاملات جن کا تعلق فکري امور سے ہے ،جن کے ليے گہري نظر اور جانچ پڑتال کي ضرورت ہوتي ہے ، اوروہ معاملات جو تجربہ اور علم کے محتاج ہيں،نيز سائنسي اور ٹيکنيکل امور، مالياتي امور،افواج اور خارجہ پاليسي سے متعلق امور ، ان تمام معاملات ميں خليفہ مشورے کے ليے مجلسِ اُمت کي طرف رجوع کرے گااور ان معاملات ميں مجلس کي رائے پر عمل کرنا خليفہ پر لازم نہيں?
2) خليفہ دستور اورقوانين کے ليے جن احکامات کي تبني کا ارادہ کرے تو اسے چاہيے کہ ان احکامات کو مجلسِ امت کے سامنے رکھے? مجلسِ امت کے مسلم اراکين کو ان کے بارے ميں بحث ومباحثے کا حق حاصل ہے، اور يہ کہ وہ ان احکامات کے درست اور غلط پہلوؤں کو بيان کريں? اور اگر وہ خليفہ کے ساتھ اس امر ميں اختلاف کريں کہ خليفہ کا طريقہ? تبني ، احکا مِ شريعت کي تبني سے متعلق رياست کے طريقہ کے مخالف ہے ، تو يہ معاملہ محکمة المظالم کے سامنے پيش ہو گا اور اس ميں محکمة المظالم کي رائے لازم ہو گي?
3) مجلسِ امت کو تمام معاملات ميں رياست کے محاسبے کا حق حاصل ہے? خواہ ان کا تعلق خارجہ امور سے ہو يا يہ داخلي امورہوں يا يہ ماليات ، فوج يا ديگر امور سے متعلق ہوں? اس سلسلے ميں مجلس کي رائے کو اختيارکرنا لازمي ہوگا، اگر ان معاملات کا تعلق ايسے امور سے ہو جس ميں اکثريت کي رائے کو اختيار کرنا لازم ہوتا ہے? اور اگر اس معاملے کا تعلق ان امور سے ہو جس ميں اکثريت کي رائے پر عمل کرنا لازم نہيں ہوتا، تومجلس کي رائے پر عمل کرنا لازمي نہ ہو گا?
اور اگر مجلس خليفہ کے ساتھ کسي ايسے عمل پرشرعي نقطہ نظر کے لحاظ سے اختلاف کرے، جو کہ اپنے انجام کو پہنچ چکا ہے، تو پھر اس صورت ميں محکمة المظالم کي طرف رجوع کيا جائے گا? اور محکمة المظالم اس بات کا فيصلہ کرے گا کہ يہ فيصلہ شرعي تھايا نہيں اور محکمة المظالم کي رائے پر عمل کرنالازم ہو گا?
4) مجلسِ امت واليوں اور معاونين اور عمال کے بارے ميں ناپسنديدگي (عدمِ اعتماد)کا اظہار کرسکتي ہے? اس معاملے ميں اس کي رائے پرعمل کرنا ضرور ي ہوگااور خليفہ پر لازم ہے کہ وہ فوراً انہيں معزول کردے? اور اگر اس معاملے ميں مجلسِ امت کي رائے اُس ولايہ کي مجلسِ ولايہ کي رائے کے خلاف ہو تو اس صورت ميں مجلسِ ولايہ کي رائے مقدم ہو گي?
5) مجلسِ امت کے مسلمان اراکين کو خلافت کے اميدواروں کي کانٹ چھانٹ کرنے کا حق حاصل ہے،جن کے متعلق محکمة المظالم نے فيصلہ دے ديا ہو کہ وہ شروطِ انعقاد پر پورا اترتے ہيں? اس معاملے ميں مجلس کي رائے پر عمل کرنا لازم ہے اور مجلس کے کانٹ چھانٹ کردہ اميدواروں کے سوا کسي کا انتخاب درست نہ ہو گا?