اسلامي عقيدہ ہي رياست کي بنياد ہے،يعني رياست کي ساخت، اس کے ڈھانچے، اس کا محاسبہ يا کوئي بھي ايسي چيز جو رياست سے متعلق ہو، وہ اسلامي عقيدے ہي کي بنيادپر استوار ہوگي? دستور اور شرعي قوانين کي بنياد بھي يہي عقيدہ ہے? دستور اورقوانين سے متعلق صرف اس چيز کو قبول کيا جائے گا، جواسلامي عقيدے سے اخذ کردہ ہو?
A
18
آرٹيکل 1
18 مشاہدات
0 شراکتیں
Related Articles
مضمون
2
دارالاسلام وہ ملک ہے جہاں اسلامي احکامات نافذ ہوں اور اس کا امن وتحفظ اسلامي قوت کے بل بوتے پر ہو? دارالکفر وہ ہے جہاں کفريہ نظام نافذ ہو يا اس کاامن...
18
مضمون
3
خليفہ متعين شرعي احکامات کي تبني کرے گا جو دستور اور قوانين ہونگے? خليفہ جب کسي حکمِ شرعي کي تبني کرے تو صرف يہي حکم وہ حکمِ شرعي ہوگا جس پر عمل کرنا...
19
مضمون
4
خليفہ عبادات ميں سے زکو?ةوجہاد کے سوا کسي متعين حکمِ شرعي کي تبني نہيں کرے گا? نہ وہ اسلامي عقيدہ سے متعلق افکار ميں سے کسي فکر کي تبني کرے گا?
19
مضمون
5
وہ تمام افراد، جو اسلامي رياست کي شہريت کے حامل ہوں، انہيں تمام شرعي حقوق حاصل ہونگے او ر انہيں اپنے شرعي فرائض پورا کرنے ہوں گے?
19
مضمون
6
رياست کے ليے بالکل جائز نہيں کہ وہ اپنے شہريوں کے مابين حکومتي معاملات، عدالتي فيصلوں، لوگوں کے امور کي ديکھ بھال اور ديگر مسائل ميں کسي قسم کا امتياز...
21