انجام دينے کا اختيار رکھتاہو، مثلاً وصي (نگران)اور ولي (سرپرست)يا اس کے پاس اعمالِ عامہ کي انجام دہي کا اختيار ہو، جيسے خليفہ کامقررکردہ سربراہ، حاکم، ملازم، قاضي مظالم اور محتسب، تو وہ اپنے دفاع يا جھگڑے (خصومت)کے ليے کسي کو اپنا وکيل بناسکتاہے? يہ وکالت بھي وصي، ولي يا خليفہ يا حاکم يا ملازم يا قاضي مظالم اور محتسب کے اعتبار سے ہوگي? اس سے کوئي فرق نہيں پڑتاکہ وہ مدعي ہو يا مدعي عليہ?
آرٹيکل 94
Related Articles
عدليہ کسي معاملے پر فيصلہ صادر کرتي ہے تاکہ اسے نافذ کيا جائے? عدليہ کے ذريعے لوگوں کے باہمي جھگڑوں کا فيصلہ کيا جاتاہے يا ان چيزوں کا سدباب کيا جاتا...
خليفہ ايسے شخص کو قاضي القضاة مقرر کرے گا جو مرد ، با لغ، آزاد ، مسلمان ، عاقل، عادل اور فقيہ ہو ? پھر اگر اس کو قاضي المظالم مقرر کرنے اور اس کو بر ...
قاضي تين ہيں:ايک قاضي عام، يہ لوگوں کے درميان معاملات اور عقوبات ميں فيصلے کا ذمہ دار ہو تا ہے،دوسرا محتسب ،يہ ان خلاف ورزيوں کے فيصلوں کو نمٹانے کا ...
قاضي کا منصب سنبھالنے والے شخص کے ليے شرط کہ وہ مسلمان،آزاد،بالغ،عاقل،عادل،فقيہ اور احکامات کو حقائق پر لاگوکرنے پر قادر ہو،جبکہ کہ قاضي مظالم کا منصب...
قاضي ،محتسب اور قاضي مظالم کو تمام علاقوں ميں تمام مسائل کے فيصلے کرنے کي عمومي ذمہ داري سونپ دينا بھي جائز ہے اور کسي مخصوص علاقے ميں کچھ مخصوص قسم ک...