خليفہ ايسے شخص کو قاضي القضاة مقرر کرے گا جو مرد ، با لغ، آزاد ، مسلمان ، عاقل، عادل اور فقيہ ہو ? پھر اگر اس کو قاضي المظالم مقرر کرنے اور اس کو بر طرف کرنے اور مظالم ميں فيصلے کرنے کا اختيار بھي ديا جائے تب اس کے ليے مجتہد ہونا ضروري ہے ?اور انتظامي قوانين کے اندر رہتے ہوئے اس کے پاس قاضيوں کے تقرر، ان کو سمجھانے اور ان کو بوقت ضرورت برطرف کرنے کا اختيار بھي حاصل ہو گا?تا ہم عدليہ کے باقي ملازمين اس محکمے کے انچارج کے ساتھ مربوط ہوتے ہيں جو عدليہ کے تمام امور کي ديکھ بھال کر تا ہے ?
آرٹيکل 76
Related Articles
عدليہ کسي معاملے پر فيصلہ صادر کرتي ہے تاکہ اسے نافذ کيا جائے? عدليہ کے ذريعے لوگوں کے باہمي جھگڑوں کا فيصلہ کيا جاتاہے يا ان چيزوں کا سدباب کيا جاتا...
قاضي تين ہيں:ايک قاضي عام، يہ لوگوں کے درميان معاملات اور عقوبات ميں فيصلے کا ذمہ دار ہو تا ہے،دوسرا محتسب ،يہ ان خلاف ورزيوں کے فيصلوں کو نمٹانے کا ...
قاضي کا منصب سنبھالنے والے شخص کے ليے شرط کہ وہ مسلمان،آزاد،بالغ،عاقل،عادل،فقيہ اور احکامات کو حقائق پر لاگوکرنے پر قادر ہو،جبکہ کہ قاضي مظالم کا منصب...
قاضي ،محتسب اور قاضي مظالم کو تمام علاقوں ميں تمام مسائل کے فيصلے کرنے کي عمومي ذمہ داري سونپ دينا بھي جائز ہے اور کسي مخصوص علاقے ميں کچھ مخصوص قسم ک...
عدالت صرف ايک ايسے قاضي پر مشتمل ہوگي جسے مقدمات کے فيصلے کااختيار ہوگا? اس کے ساتھ دوسرے قاضي بھي ہوسکتے ہيں، ليکن انہيں فيصلے کا اختيار حاصل نہيں ہ...