رياست ان تمام افراد پر، جو اسلامي رياست کے شہري ہوں، خواہ وہ مسلم ہوں يا غير مسلم، حسبِ ذيل طريقے سے اسلامي شريعت نافذ کرے گي:
ا) مسلمانوں پر بغير کسي استثناء کے تمام اسلامي احکامات نافذ کرے گي?
ب) غير مسلم جو بھي اعتقاد رکھيں اور جس طرح چاہيں عبادت کريں، ان سے اُس کے متعلق بازپرس نہيں کي جائے گي?
ج) رياست مرتدين پر مرتدسے متعلق اسلامي احکامات لاگو کرے گي، بشرطيکہ وہ خود مرتد ہوئے ہوں? ليکن اگر وہ مرتدين کي اولاد ہوں اور پيدائشي غير مسلم ہوں تو ان کے ساتھ غير مسلموں کاسا معاملہ کيا جائے گا? يعني صورت حال کے مطابق کہ وہ مشرک ہيں يا اہل کتاب?
د) غير مسلموں کے ساتھ کھانے پينے او رلباس کے معاملات ميں شرعي احکامات کي حدود ميں رہتے ہوئے ان کے دين کے مطابق معاملہ کيا جائے گا?
ہ) غير مسلموں کے درميان شادي و طلاق کے معاملات ان کے اديان کے مطابق نمٹائے جائيں گے او رمسلمانوں کے ساتھ غير مسلموں کے يہ معاملات اسلامي احکامات کے مطابق طے کيے جائيں گے?
و) باقي تمام شرعي احکامات اورشرعي امورمثلاً معاملات، عقوبات، بينات (گواہوں)، نظامِ حکومت اور اقتصاديات وغير ہ کو تمام رعايا پر، خواہ وہ مسلم ہوں يا غير مسلم، رياست برا بري کي بنياد پر نافذ کرے گي? اسي طرح معاہدين (اہلِ معاہدہ )، مستامنين (اسلامي رياست کي امان ميں آنے والے )اور ہر اس شخص پرجو اسلامي رياست کے زير سايہ رہتاہے، رياست ان احکامات کو نافذ کرے گي، ماسوائے سفير، ايلچي اور اسي نوعيت کے ديگر لوگ جنہيں سفارتي امان حاصل ہوگي