خليفہ کافرض ہے کہ وہ واليوں کے اعمال پرنظر رکھے اوران کي کڑي نگراني کرے? وہ ان پر نظر رکھنے کے ليے اپنے نائب مقررکرے، ان کے بارے ميں برابر تفتيش کرتا رہے، وقتاً فوقتاً تمام واليوں کاايک ساتھ يا الگ الگ اجلاس بلاتارہے اورواليوں کے بارے ميں رعاياکي شکايتوں سے انہيں باخبر کرے?
آرٹيکل 60
Related Articles
ان علاقوں کو، جو اسلامي رياست کے زيرِنگيں ہيں، کئي ايک اکائيوں ميں تقسيم کيا جاتاہے اور ہر اکائي کو ولايہ (صوبہ) کہا جاتاہے? پھر ولايہ کو کئي اکائيوں...
واليوں کا تقرر خليفہ کرتاہے? عمال کا تقرر خليفہ بھي کرسکتاہے اور والي بھي بشرطيکہ خليفہ يہ اختيارواليوں کے حوالے کرے? واليوں اور عاملوں کے ليے وہي...
والي کو خليفہ کے نائب کي حيثيت سے اپنے صوبے کے شعبوں کے تمام کاموں پر حکمراني اور نگراني کااختيار حاصل ہوتاہے? گويا والي کو اپني ولايہ ميں وہ تمام اخ...
والي اپني امارت سے متعلقہ امور کے بارے ميں جن فيصلوں يا احکامات پر دستخط کرے، ان کے بارے ميں وہ خليفہ کو مطلع کرنے کا پابند نہيں? ہاں !اختياري طورپر ...
ہر ولايہ کے اندر ولايہ ميں رہنے والوں ميں سے ايک کميٹي (مجلس)منتخب کي جائے گي، جس کا سربراہ خود والي ہوگا? اس کميٹي کو انتظامي معاملات سے متعلق رائے ...