خاص محکمے کے ساتھ مخصوص نہيں کيا جائے گا? کيونکہ اس کي نگراني عام ہے? کيونکہ جو لوگ انتظامي معاملات کو پورا کرتے ہيں وہ ملازم ہوتے ہيں نہ کہ حکمران? جبکہ معاونِ تفويض حکمران ہے? اور اسے کسي خاص عمل کي سرانجام دہي کے ساتھ مخصوص کرنا درست نہيں کيونکہ اس کي تقرري عام ہے?
آرٹيکل 48
Related Articles
مقررکرے گاجوحکمراني کي ذمہ داري اٹھائے گا? پس خليفہ اسے اپنے رائے کے مطابق امور کي تدبير کرنے او راپنے اجتہاد کے مطابق معاملات نپٹانے کي ذمہ داري س...
ليے بھي وہي شرائط ہو ں گي جوخليفہ کے ليے ہيں? يعني وہ ايک آزاد، عاقل، بالغ، مسلمان اور مرد ہو? اس کے علاوہ اس کے ليے يہ شرط بھي ہے کہ وہ اپني ذمہ دا...
معاونِ تفويض کو اختيارات سونپنے کي دو شرائط ہيں: (1) اسے عمومي اختيار سونپا جائے? (2) اسے نيابت حاصل ہو? اس ليے خليفہ کو لازماً يہ کہنا چاہي...
امور کي تدبيرکرے يا جن احکام کو نافذ کرے، ان سے خليفہ کوباخبر رکھے، تاکہ اختيارات کے استعمال ميں خليفہ اور اس کے درميان فرق ہو? اس کاکام خليفہ کو باخ...
کے اعمال اورتدابير کا جائزہ لے، تاکہ ان ميں سے صحيح کوبرقرا ررکھے اور غلط کا تدارک کرے? کيونکہ اُمت کے معاملات کي نگراني خليفہ کي ذمہ داري اور اس کے ...