تدبير کرے اور خليفہ اس کي منظوري دے دے، تو معاون کو چاہيے کہ وہ اسے کسي کمي بيشي کے بغير اسي طرح نافذکرے جس طرح کہ خليفہ نے منظوري دي تھي? اگر خليفہ پھر اس معاملے کاجائزہ لے اور ديکھے کہ معاون نے اس امر کے خلاف عمل کيا ہے، تو ديکھا جائے گا کہ اگر يہ حکم کسي ايسے معاملے سے متعلق ہو جسے معاون نے خليفہ کے نقطئہ نظر کے مطابق نافذ کيا ہو، يا يہ حکم کسي ايسے مال سے متعلق ہو جسے معاون نے خليفہ کي طرف سے کرديا ہوتواس صورت ميں معاون کي رائے نافذ العمل سمجھي جائے گي? کيونکہ يہ دراصل خليفہ کي رائے تھي اور جو احکامات نافذ کيے گئے، يا جو اموال خرچ کيے گئے، خليفہ اس کي تلافي نہيں کرسکتا? اگر جس معاملے کو معاون نے نپٹايا ہو، اس کاتعلق ايسے امور کے علاوہ کسي اور چيز کے ساتھ ہو، مثلاً کسي کو والي مقرر کرنا يا فوج تيار کرنا? تو اس صورت ميں خليفہ اس معاملے کو تبديل کرسکتاہے? اس صورت ميں خليفہ ہي کي رائے نافذ ہوگي اور معاون کا فيصلہ کالعدم سمجھا جائے گا? کيونکہ يہ ايسے اعمال ہيں کہ اگر يہ خود خليفہ سے بھي صادر ہوئے ہوں تو تب بھي وہ ان کا تدارک کرسکتاہے? لہ?ذا ايسے معاملات ميں خليفہ اپنے معاون کے فيصلوں کي تلافي تو بطريقِ اولي? کرسکتاہے?
آرٹيکل 47
Related Articles
مقررکرے گاجوحکمراني کي ذمہ داري اٹھائے گا? پس خليفہ اسے اپنے رائے کے مطابق امور کي تدبير کرنے او راپنے اجتہاد کے مطابق معاملات نپٹانے کي ذمہ داري س...
ليے بھي وہي شرائط ہو ں گي جوخليفہ کے ليے ہيں? يعني وہ ايک آزاد، عاقل، بالغ، مسلمان اور مرد ہو? اس کے علاوہ اس کے ليے يہ شرط بھي ہے کہ وہ اپني ذمہ دا...
معاونِ تفويض کو اختيارات سونپنے کي دو شرائط ہيں: (1) اسے عمومي اختيار سونپا جائے? (2) اسے نيابت حاصل ہو? اس ليے خليفہ کو لازماً يہ کہنا چاہي...
امور کي تدبيرکرے يا جن احکام کو نافذ کرے، ان سے خليفہ کوباخبر رکھے، تاکہ اختيارات کے استعمال ميں خليفہ اور اس کے درميان فرق ہو? اس کاکام خليفہ کو باخ...
کے اعمال اورتدابير کا جائزہ لے، تاکہ ان ميں سے صحيح کوبرقرا ررکھے اور غلط کا تدارک کرے? کيونکہ اُمت کے معاملات کي نگراني خليفہ کي ذمہ داري اور اس کے ...