حالت بد ل جاتي ہے او روہ منصبِ خلافت سے معزول ہوجاتا ہے، وہ يہ تين امور ہيں:
(1) جب انعقادِ خلافت کي شرائط ميں سے کوئي شرط مفقود ہو جائے? جيسے مرتد ہونا، خليفہ سے فسق کا ظہور ہوجانا، مجنون ہونا، يااسي قسم کي کوئي دوسري صورت پيش آئے ? کيونکہ يہ تمام شرائط خلافت کے انعقاد کي شرائط بھي ہيں اور خلافت کے دوام کي شرائط بھي?
(2) خليفہ کسي بھي سبب سے خلافت کے فرائض کي انجام دہي سے عاجز ہو جائے?
(3) وہ اس قدر مغلوب ہو جائے کہ اپني رائے سے شريعت کے موافق مسلمانوں کے مفادات کي حفاظت نہ کرسکے? پس جب اس پر کوئي اس حد تک غالب آجائے کہ وہ احکامِ شرع کي روشني ميں بذاتِ خود اپنے اختيار وارادے سے، اپني رائے کے مطابق رعايا کے مفادات کي نگراني کرنے سے عاجز ہو جائے تو اسے حکماً فرائضِ خلافت کي ادائيگي سے عاجز سمجھا جائے گا? ايسي صورت ميں وہ اس منصب کا اہل نہيں رہتا? اس کي دو صورتيں ہوسکتي ہيں:
پہلي صورت: اس کے حاشيہ برداروںميں سے کوئي ايک فرد يا ايک سے زائد افراد اس پر اس طرح مسلط ہوجائيں کہ اس پر اپني رائے ٹھونس ديں? اس صورت ميں اگر ان لوگوں سے چھٹکارا پانے کي اميد ہو تو اسے ايک معينہ مدت تک مہلت دي جائے گي? پھر اگر وہ ان سے چھٹکارا حاصل کرنے ميں کامياب نہ ہوسکے تو اسے معزول کيا جائے گا? اگر شروع ہي سے چھٹکارہ پانے کي اميد نہ ہو تواسے اسي وقت معزول کيا جائے گا?
دوسري صورت: وہ کسي زبردست دشمن کے ہاتھوں گرفتار ہوجائے? يہ گرفتاري خواہ بالفعل ہو يا وہ دشمن خليفہ پر تسلط حاصل کرلے? اس صورت ميں اگر بچ نکلنے کي اميد ہو تو اسے مہلت دي جائے گي ورنہ اسے معزول کيا جائے گا? اگر شروع ہي سے خلاصي کي کوئي اميد نہ ہو تو خليفہ کو فوراً معزول کيا جائے گا?