A
18

آرٹيکل 38

خليفہ کو اپني صوابديد اور اجتہاد کے مطابق لوگوں کے امور کي ديکھ بھال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور اسے ان مباحات کي تبني کرنے کا حق بھي حاصل ہے جو رياست کے معاملات کو چلانے اور لوگوں کے امور کي ديکھ بھال کو آسان بنانے کے ليے درکار ہوں?    تاہم اس کے ليے يہ جائز نہيں کہ وہ مصلحت کو دليل بناکر کسي حکمِ شرعي کي مخالفت کرے?  مثلاًاس کے ليے جائز نہيں کہ وہ غذائي قلت کو دليل بنا کر لوگوں کو کثرتِ اولاد سے منع کرے يا وہ استحصال کو روکنے کے نام پر، يعني اس کو دليل بناکر لوگوں کے ليے اشيائے صرف کي قيمتيں مقررکرے يا وہ لوگوں کے امور کي ديکھ بھال يا مصلحت کو دليل بنا کر کسي کافر يا کسي عورت کو والي مقرر کرے?  اس کے علاوہ کسي بھي حالت ميں اسے احکامِ شرع کي مخالفت کرنے کي اجازت نہيں ہے?  کسي حلال کو حرام يا کسي حرام کوحلال قراردينا اس کے ليے جائز نہيں?

17 مشاہدات
0 شراکتیں