کا پابند ہے، چنانچہ کسي ايسے حکم کي تبني کرنا اس کے ليے حرام ہے جس کا اس نے ''ادِلّہ شرعيہ'' سے صحيح طورپر استنباط نہ کيا ہو? وہ اپنے تبني کردہ احکامات اور طريقہ استنباط کا بھي پابند ہے? چنانچہ اس کے ليے جائز نہيں کہ وہ کسي ايسے حکم کي تبني کرے جس کے استنباط کا طريقہ اُس طريقے سے متناقض ہوجسے خليفہ نے تبني کيا ہوا ہو، اورنہ ہي اس کے ليے جائز ہے کہ وہ کوئي ايسا حکم دے جو اس کے تبني کردہ احکامات سے متناقض ہو?
A
18
آرٹيکل 37
18 مشاہدات
0 شراکتیں
Related Articles
مضمون
24
خليفہ ہي اختياراورشريعت کے نفاذ ميں امت کا نمائندہ ہوتاہے?
17
مضمون
25
ہے? لہ?ذا کسي کو خلافت قبول کرنے يا خليفہ کے انتخاب پرمجبور نہيں کيا جائے گا?
19
مضمون
26
ہر عاقل وبالغ مسلمان کو، خواہ وہ مرد ہو يا عورت، خليفہ کے انتخاب ميں حصہ لينے اور خليفہ کي بيعت کرنے کا حق حاصل ہے، ليکن غير مسلموں کو خليفہ کے انتخاب...
19
مضمون
27
جن لوگوں کي بيعت سے خلافت کا انعقاد ہوتاہے اگر وہ لوگ بطورِخليفہ کسي ايک شخص کي بيعت کرليں تو باقي لوگوں کي طرف سے دي جانے والي بيعت، بيعتِ اطاعت ہوگي...
19
مضمون
28
صرف وہي شخص خليفہ ہوسکتاہے جسے مسلمان منتخب کريں? کسي بھي شخص کو خليفہ کے اختيارات اس وقت حاصل ہوں گے جب دوسرے شرعي عقود کي طرح اس کي بيعت کا عقد شرع...
18