خليفہ کے پاس درج ذيل اختيارات ہوتے ہيں:
ا) خليفہ ہي ان احکامات کي تبني(يعني احکامات کو اختيار) کرتاہے،جو لوگوں کے امور کي ديکھ بھال کے ليے ضروري ہوں، اور يہ تبني کتاب و سنت سے صحيح اجتہاد کے ذريعے مستنبط کردہ احکامات کي ہوتي ہے? تاکہ يہ احکامات قوانين بن جائيں ? ان قوانين پر عمل فرض ہوتاہے? ان کي مخالفت جائزنہيں?
ب) خليفہ ہي رياست کي خارجي وداخلي پاليسي کے بارے ميں جوابدہ ہوتا ہے? وہي فوج کا سربراہ ہوتاہے? وہي اعلانِ جنگ، صلح يا جنگ بندي کا اعلان کرسکتاہے اور تمام معاہدات کا اختيار اسي کوحاصل ہوتاہے?
ج) خليفہ ہي بيروني سفيروں کو قبول يا مسترد کرسکتاہے? اسي طرح وہ مسلمان سفيروں کو مقرر يا معزول کرسکتاہے?
د) خليفہ ہي معاونين او رواليوں کا تقرر يا انہيں سبکدوش کرسکتاہے، جس طرح وہ مجلسِ امت کے سامنے جوابدہ ہوتے ہيں، اُسي طرح خليفہ کے سامنے بھي جوابدہ ہوتے ہيں?
ہ) خليفہ ہي قاضي القضاة اور ديگر قاضيوں کو مقرر اور انہيں معزول کر سکتا ہے، تاہم ايک صورت ميں خليفہ قاضي مظالم کو معزول نہيں کر سکتا ، جب وہ خليفہ يا معاون يا قاضي القضاة کے خلاف کيس کا جائزہ لے رہا ہو? اسي طرح خليفہ ہي مختلف شعبوں کے ڈائريکٹروں، فوج کے کمانڈروں اورصوبوں کے واليوں کومقرر يا معزول کرسکتاہے? يہ سب خليفہ کے سامنے جوابدہ ہوتے ہيں? اور يہ مجلسِ امت کے سامنے جوابدہ نہيں ہوتے?
و) خليفہ ہي رياست کے بجٹ سے متعلق احکامِ شريعت کي تبني کا اختيار رکھتا ہے اور وہي بجٹ کي مدات اور آمدن و خرچ سے متعلقہ رقموں کا تعين بھي کرتاہے?